امن انعام جیتنے والی مسلمانوں کی ہمدرد عالمی جج نوی پلے کون ہیں

کیا نوبل امن انعام درست شخصیات کو دیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ بھی امیدوار تھے

October 9, 2026 · امت خاص
نوی پلے (پورٹریٹ نوبل امن انعام کمیٹی)

نوی پلے (پورٹریٹ نوبل امن انعام کمیٹی)

نوی پلے (Navanethem “Navi” Pillay) جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی 85 سالہ نامور قانون دان، عالمی جج اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے استحکام اور عالمی انصاف کے لیے گراں قدر خدمات پر 2026 کا نوبل امن انعام دیا گیا ہے۔ وہ خاص طور پر مظلوم اقوام، بالخصوص غزہ اور میانمار کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر کھل کر مؤقف اپنانے اور جنگی جرائم کی بے باک تحقیقات کے باعث دنیا بھر میں غیر معمولی شناخت رکھتی ہیں۔

نوی پلے 1941 میں جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں ایک بھارتی نژاد تامل خاندان میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا آغاز نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں شدید سماجی و نسلی تعصبات کے خلاف جدوجہد سے کیا۔ وہ 1967 میں نٹال کے صوبے میں اپنی قانونی پریکٹس قائم کرنے والی پہلی غیر سفید فام خاتون وکیل بنیں اور انہوں نے نیلسن منڈیلا سمیت اپارتھائیڈ کی مخالفت کرنے والے بے شمار سیاسی قیدیوں کا کامیابی سے دفاع کیا۔

اپارتھائیڈ کے خاتمے کے بعد وہ جنوبی افریقا کی سپریم کورٹ کی پہلی غیر سفید فام خاتون جج مقرر ہوئیں۔

ان کی عالمی عدالتی خدمات بین الاقوامی قوانین میں تاریخی تبدیلیاں لانے کا سبب بنیں۔ نوی پلے نے روانڈا کے جنگی جرائم کے ٹربیونل (ICTR) کی صدر اور بعد ازاں عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی اپیلز چیمبر کی جج کی حیثیت سے کام کیا۔

روانڈا ٹربیونل کے دوران انہوں نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے یہ قانونی نظیر قائم کی کہ جنگ اور تنازعات میں جنسی تشدد اور عصمت دری دراصل نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ وہ 2008 سے 2014 تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب پر بھی فائز رہیں، جہاں انہوں نے دنیا بھر میں ریاستی جبر اور ناانصافی کے خلاف توانا آواز بلند کی۔

مسلم دنیا کے مسائل اور تنازعات میں نوی پلے کا کردار انتہائی نمایاں اور بے باک رہا ہے۔ 2021 سے 2025 تک انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور غزہ سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی سربراہی کی۔ اس کمیشن نے ستمبر 2025 میں اپنی تاریخی اور مفصل رپورٹ پیش کی، جس میں شواہد کی بنیاد پر یہ دوٹوک نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی باقاعدہ نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

نوی پلے نے بین الاقوامی فورمز پر یہ مؤقف اپنایا کہ اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت نے نسل کشی کی ترغیب دی اور انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کو خبردار کیا کہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا قانونی طور پر نسل کشی میں معاونت کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ، میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں گیمبیا کی جانب سے دائر مقدمے میں نوی پلے بطور ایڈہاک جج خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی اور روہنگیا مسلمانوں کے بنیادی حقوق اور حقِ خودارادیت کا پرزور دفاع کرنے کی وجہ سے انہیں دنیا بھر کے مظلوم عوام، بالخصوص متاثرہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے ایک مضبوط اور نڈر قانونی ڈھال مانا جاتا ہے۔

نوبل کمیٹی کے مطابق، طاقت کے زور پر قوانین کو پامال کرنے کے موجودہ دور میں نوی پلے کا غیر متزلزل اخلاقی و قانونی کردار اور مظلوموں کو انصاف دلانے کی کاوشیں انسانیت کے لیے امید کی مشعل ہیں۔

اس بار امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ بھی امیدوار تھے۔ انہیں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے نامزد کیا تھا اور اعلان سے چند گھنٹے پہلے امید ظاہر کی تھی کہ نوبل انعام امریکی صدر کو ملے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔