مفتی منیب الرحمٰن کی حکومت پر تنقید،فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے
پی ٹی آئی کی ریلی کے پیش نظر 23 ستمبر سے اسلام آباد بند ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے 4 اکتوبر سے ریلی کو صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری رکھا ہوا ہے۔
مفتی منیب الرحمٰن کی حکومت پر تنقید،فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے
مفتی منیب الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف کی ریلی اور اسلام آباد کی بندش کے معاملے پر وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں فیصلہ سازی کا فقدان دکھائی دے رہا ہے۔
اپنے بیان میں مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی ریلی کے پیش نظر 23 ستمبر سے اسلام آباد بند ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے 4 اکتوبر سے ریلی کو صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کے باعث ملک میں سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور لاک ڈاؤن کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عوام کے ٹیکسوں پر پڑتا ہے۔
مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی اپنی سیاسی مجبوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی مؤثر فیصلہ سامنے نہ آنا تشویش ناک ہے۔ ان کے بقول موجودہ صورتِ حال سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم اور ان کی کابینہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں؟ اگر حکومت حالات پر قابو پانے میں ناکام ہے تو پوری قوم کو غیر یقینی صورتِ حال میں رکھنے کے بجائے اسے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔
مفتی منیب الرحمٰن نے مذاکرات میں شامل فریقین اور ثالثوں پر بھی زور دیا کہ وہ درمیانی راستہ اختیار کریں اور ملک و قوم کو اس بحران سے نکالنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔