حوثی حملے کے وقت عمرہ زائرین ریاض ایئرپورٹ پر کیوں موجود تھے
احرام پہنے مسلمانوں کے نشانہ بننے پر غم و غصہ- ڈھاکہ ریاض پروازیں بنگلہ دیشیوں کی ترجیح ہیں
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے سے چند لمحے پہلے بنگلہ دیشی عمرہ زائرین (ویڈیو گریب)
سعودی دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو حوثی حملے میں بنگلہ دیش کے دو عمرہ زائرین بھی شہید ہوئے۔ ان عمرہ زائرین کے میزائل حملے میں نشانہ بننے کی ویڈیو اب سامنے آئی ہے جس مسلم دنیا میں غم و غصہ پیدا کردیا ہے تاہم ایک سوال یہ بھی ہیں کہ عمرہ زائرین ریاض ایئرپورٹ پر کیوں تھے کیونکہ عام طور پر حج اور عمرے کے لیے سعودی عرب جانے والے جدہ ایئرپورٹ پر اترتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے مفتی نصر اللہ البدر سمیت 2 افراد شہید جب کہ 24 زخمی ہوئے۔ ان مین سے بیشتر عمرہ زائرین تھے۔ مفتی نصراللہ عمرہ زائرین کا گروپ لے کر پہنچے تھے۔ مارے گئے دوسرے شخص کو بھی شروع میں عمرہ زائر سمجھا گیا تاہم بعد میں ایک کی شناخت محمد شاہد کے طور پر ہوئی۔ وہ جدہ میں پلمبر کا کام کرتا تھا اور اپنے بھائی کی وفات پر بنگلہ دیش کیا تھا۔
شاہد اور عمرہ زائرین کے گروپ نے ڈھاکہ سے سعودی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے ریاض تک سفر کیا تھا۔ یہاں سے ان تمام کو ڈومیسٹک پرواز کے ذریعے جدہ روانہ ہونا تھا۔ وہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں انتظار کر رہے تھے جب میزائل حملہ ہوا۔ العریبہ ٹی وی کی جانب سے سامنے لائی گئی ویڈیو میں احرام پہنے زائرین کو حملے کا نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے۔
🔴 Exclusive footage obtained by Al Arabiya English shows Umrah pilgrims preparing to board their flights as the Houthi attack struck Riyadh’s King Khalid International Airport. pic.twitter.com/N2o6Wylf06
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 11, 2026
ڈھاکہ سے براہ راست جدہ کے بجائے ریاض ایئرپورٹ پر جانے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ بیشتر زائرین سعودی عرب میں جدہ ایئرپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے وہاں پر زائرین کا رش ہوتا ہے اور امیگریشن کلیئر ہونے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ریاض ایئرپورٹ پر امیگریشن جلدی ہو جاتی ہے اس کے بعد زائرین مقامی پرواز سے جدہ پہنچتے ہیں جہاں ایئرپورٹ سے باہر آنے میں انہیں زیادہ وقت نہیں لگتا، یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی عمرہ زائرین اور شاہد جیسے محنت کشوں نے ڈھاکہ جدہ کے بجائے ڈھاکہ ریاض پرواز کا انتخاب کیا۔ اور یہ ایک معمول ہے۔
بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق جس وقت میزائل حملہ ہوا مجموعی طور پر 500 بنگلہ دیشی ریاض ایئرپورٹ پر موجود تھے، ان میں سے کچھ ڈھاکہ سے پہنچے تھے اور کچھ سعودی عرب سے بنگلہ دیش واپس جا رہے تھے۔