غزہ میں فوجی مظالم پر دستاویزی فلم کی نمائش، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو برہم
اہم پیش رفت، فوجی اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کا حکم، بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔
غزہ میں جنگی جرائم پر بنی دستاویزی فلم کی نمائش کے بعد اسرائیلی سیاسی و عسکریحلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور مبینہ جنگی جرائم سے متعلق بنائی جانے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو شدید برہم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے فلم میں شناخت ظاہر کیے بغیر انٹرویو دینے والے فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف فوری تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اسرائیلی فوج کے سربراہ، داخلی خفیہ ادارے شِن بیت کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ فلم میں شامل ان تمام اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کریں جنہوں نے ریاست کے راز افشا کیے۔
دستاویزی فلم میں اسرائیلی فوج کے 24 نامعلوم اہلکاروں کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں، جنہوں نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان اہلکاروں کے بقول، ان جدید نظاموں کے ذریعے مشتبہ اہداف کی نشاندہی کے دوران ہونے والی ممکنہ شہری ہلاکتوں کو بھی پہلے سے متوقع نتائج میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے انٹرویو دینے والے اہلکاروں کے خلاف خفیہ معلومات افشا کرنے، مبینہ مجرمانہ ہتکِ عزت اور اسرائیل کے سفارتی و سیکیورٹی مفادات کو شدید نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات کے تحت کارروائی پر زور دیا ہے۔ نیتن یاہو نے اس دستاویزی فلم کو مکمل طور پر گمراہ کن اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس قسم کے پروپیگنڈے سے عالمی سطح پر اسرائیلی ریاست اور فوج کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دستاویزی فلم میں عائد کردہ تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی اہداف کے تعین اور کسی بھی حملے کی منظوری کا حتمی فیصلہ انسانی اہلکار خود کرتے ہیں، اور تمام عسکری کارروائیاں طے شدہ ملٹری ضوابط کے عین مطابق انجام دی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ دستاویزی فلم ’نازا‘ معروف اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہام اور ریچل شور کی مشترکہ ہدایت کاری میں تیار کی گئی ہے۔ اس فلم کو حال ہی میں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، جہاں نمائش کے اختتام پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تقریباً 25 منٹ تک مسلسل تالیاں بجا کر اس کی پذیرائی کی تھی۔