صارفین سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے رعایت کےمستحق نہیں،وزیراعظم
حکومت ٹیکس وصولیوں کی مکمل استعداد حاصل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
صارفین سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے رعایت کےمستحق نہیں،وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں رکھنے والے کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ حکومت ٹیکس وصولیوں کی مکمل استعداد حاصل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
اسلام آباد میں ایف بی آر کی اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بغیر براہ راست رابطے کے ٹیکس نگرانی کے نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے صنعتی پیداوار کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کے لیے وزیراعظم نے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028 تک ایک اعشاریہ ایک کھرب روپے سے بڑھا کر دو اعشاریہ دو کھرب روپے کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ ادارے سمیڈا کو ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جائے، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔
ادھر خیبر پختونخوا میں حکومتی انتظامات اور نظم و نسق بہتر بنانے کے لیے وزیراعظم نے پالیسی رہنما اصول مرتب کرنے کی غرض سے 10 رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔
کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور خالد مقبول صدیقی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی کے ایک ایک نمائندے کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی خیبر پختونخوا میں نظم و نسق بہتر بنانے کے لیے پالیسی رہنما اصول تجویز کرے گی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔