وزیراعظم نے اپنا گھر اسکیم کے لیے دستاویزات کی شرط 25 سے گھٹا کر 5 کر دی
اہم پیش رفت، قرضوں کی فراہمی کا عمل آسان، نفاذ فوری ہوگا
وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزیراعظم اپنا گھر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے میں قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے معیشت کے فروغ کے لیے ان ترجیحی شعبوں کو بروقت قرضوں کی فراہمی ناگزیر قرار دی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے درخواستوں پر کارروائی کا دورانیہ کم کرکے 15 کاروباری دن تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ اس اسکیم کے لیے مطلوبہ دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کر دی گئی ہے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 448 ارب روپے مالیت کے 75198 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ 14000 افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں۔ رواں سال کے دوران 125000 رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ہاؤسنگ فنانس کے لیے غیر متنازع ملکیتی دستاویزات کا حصول بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا مجموعی حجم 1352 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس سے 3455000 افراد مستفید ہوئے ہیں۔ جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ تک لے جانے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایم ای شعبے کے 352000 سے زائد کاروباری افراد کو 1137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعظم نے غیر تسلی بخش کارکردگی والے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تاکہ انہیں بھی حکومتی حوصلہ افزائی مل سکے۔ اجلاس میں پاسکو کے غیر فعال گوداموں اور سائلوز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ نجی شعبے کے تعاون سے اجناس کے ذخیرے کی استعداد کار کو بڑھایا جا سکے۔