پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن شرطیں نہیں مانی جائیں گی، رانا ثنااللہ
اہم پیش رفت، تمام تجاویز تسلیم کرنے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی، محسن نقوی
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللہ میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے دروازے اب بھی کھلے ہیں مگر یہ غیرمشروط ہوں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی دونوں تقریباً ایک ہی ہیں اور آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کا اختیار استعمال کر سکے۔
رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر خیبرپختونخوا کی حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے میں بھی انہی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہو جائے گی، اسمبلی اپنا لیڈر خود منتخب کرے گی اور دوبارہ حکومت بن جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج دہشتگردی کے خاتمے تک رہے گا اور پی ٹی آئی کو قومی مفاد کے خلاف کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی تھی اور پی ٹی آئی کی تمام 6 تجاویز ماننے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں تین مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں جب کہ چوتھی مرتبہ چھ تجاویز کی بات کی گئی۔ وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ جب فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو وہ مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟
رانا ثنااللہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں جو مقدمات درج ہیں ان میں گرفتاری ہونی چاہیے کیونکہ وہ 9 مئی کے مقدمات میں پہلے ہی نامزد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی نئی جیل میں سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔