وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے حکام کو نوٹس، دو روز میں جواب طلب

جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کی

October 20, 2026 · قومی
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے حکام کو نوٹس، دو روز میں جواب طلب

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے حکام کو نوٹس، دو روز میں جواب طلب

پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر حکومت، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

منگل کو جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق سہیل آفریدی کو دو مختلف مقامات پر رکھے جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں شاہی مہمان خانہ بھی شامل ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری کو مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ بعدازاں عدالت نے حکومت، پولیس اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب طلب کر لیا۔

دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی۔

جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ کے سامنے درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد دونوں رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، تاہم ان کے موجودہ مقام کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بابر سلیم سواتی ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں، اس کے باوجود انہیں حراست میں لیے جانے کا معاملہ قابلِ توجہ ہے۔ عدالت نے حکومت، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دس روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر بھی پشاور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے صوبے میں تحریک انصاف کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیاں روکنے کی استدعا کی گئی، جسے عدالت نے منظور نہیں کیا۔

عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت جلد مقرر کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ جسٹس اعجاز انوار کی سربراہی میں جسٹس فہیم ولی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اٹارنی جنرل، وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔