خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کردیئے
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار، خیبر پختونخوا بار کونسل اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی درخواستوں پر سماعت کی۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کردیئے
پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار، خیبر پختونخوا بار کونسل اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایسی صورتحال نہیں تھی جس سے صوبائی حکومت کا نظام چلانا ناممکن ہو جاتا۔
بیرسٹر گوہر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبائی اسمبلی کی منظوری ضروری ہے، تاہم یہ منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ وکلا نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
سماعت کے دوران وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور اسمبلی اسپیکر کی عدم موجودگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ درخواست گزاروں نے دونوں رہنماؤں کو عدالت میں پیش کرنے اور ان کی رہائی سے متعلق استدعا کی۔ وفاقی وزرا اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کے بعض ارکان حفاظتی حراست میں ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے 12 ارکان قومی اسمبلی اور 14 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھائے جانے کا دعویٰ ہے، جبکہ پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں اور انہیں ہراساں کرنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب درخواست گزاروں کے وکلا نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو بھی نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا۔ اب اس معاملے کی مزید سماعت 10 نومبر کو ہوگی، جبکہ عدالت کی جانب سے تفصیلی حکم بعد میں جاری کیا جائے گا۔