ایران پر حملے کی تیاریاں، امریکی بحری جہاز پر بنکر بسٹر بم لوڈ
جہاز پر منتقل کیے جانے والے ہتھیار ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات اور مضبوط فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رپورٹ
ایران پر حملے کی تیاریاں، امریکی بحری جہاز پر بنکر بسٹر بم لوڈ
امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے لیے اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بحیرہ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر بھاری مقدار میں جدید ہتھیار اور بنکر بسٹر بم منتقل کیے جا رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی بحری جہاز پر تعینات عملہ بڑی تعداد میں اسٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل اور زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے والے خصوصی بم لوڈ کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اخبار کی رپورٹر شیلبی ہولیڈے نے طیارہ بردار بحری جہاز کے دورے کے دوران گولہ بارود کے بڑے ذخائر دیکھے۔ امریکی حکام کے مطابق فوج ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے تناظر میں اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہاز پر منتقل کیے جانے والے ہتھیار ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات اور مضبوط فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بنکر بسٹر بم اس انداز میں تیار کیے جاتے ہیں کہ وہ موٹی کنکریٹ اور چٹانوں میں نفوذ کرکے زیر زمین اہداف کو نقصان پہنچا سکیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب خطے میں میزائل حملوں، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے خدشات اور امریکی اہلکاروں کو ممکنہ خطرات سے متعلق انتباہات بھی صورتحال کو حساس بنا رہے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مڈٹرم انتخابات سے قبل فوجی کارروائی سے گریز کی پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم بحری جہاز پر ہتھیاروں کی منتقلی سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا واشنگٹن ایران کے خلاف کسی نئی کارروائی کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے حتمی وقت یا فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔