برطانیہ اور بیلجیم سمیت یورپی ممالک میں سرمائی وقت کا آغاز، گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے

معیاری وقت بحال، شہریوں کو اضافی نیند کا موقع، تبدیلی کا سلسلہ جاری رہے گا

October 25, 2026 · اہم خبریں
برطانیہ اور بیلجیم میں سرمائی وقت کے آغاز پر گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئی ہیں۔

برطانیہ اور بیلجیم میں سرمائی وقت کے آغاز پر گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئی ہیں۔

برطانیہ اور بیلجیم سمیت تمام یورپی ممالک میں موسمِ سرما کے وقت کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت اتوار 25 اکتوبر 2026 کو گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئی ہیں۔ برطانوی وقت کے مطابق رات 2 بج کر گھڑیوں کو دوبارہ 1 بجے کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر گرین وچ مین ٹائم پر آ گیا ہے۔ اس تبدیلی سے برطانوی شہریوں کو اتوار کے روز 1 اضافی گھنٹہ ملا، تاہم اس کے ساتھ ہی شام کے اوقات پہلے تاریک ہونا شروع ہو جائیں گے جبکہ صبح کے وقت روشنی نسبتاً جلد نمودار ہو گی۔

دوسری جانب بیلجیم میں بھی اتوار کی صبح رات 3 بجے گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر کے 2 بجے کر دی گئیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو 1 گھنٹہ اضافی نیند کا موقع ملا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ سے منسلک دیگر ڈیجیٹل آلات نے خودکار طریقے سے وقت تبدیل کر لیا ہے، تاہم روایتی گھڑیوں، کلائی کی گھڑیوں، بعض گاڑیوں اور گھریلو آلات کے اوقات کار کو دستی طور پر درست کرنا پڑا۔ برطانیہ اور بیلجیم سمیت یورپ بھر میں یہ سرمائی وقت اتوار 28 مارچ 2027 تک برقرار رہے گا، جس کے بعد برٹش سمر ٹائم اور موسمِ گرما کے وقت کی بحالی کے لیے گھڑیاں دوبارہ 1 گھنٹہ آگے کی جائیں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ میں موسموں کے لحاظ سے گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنے کا مقصد دن کی روشنی سے بہتر انداز میں استفادہ کرنا ہے۔ بیلجیم میں اس نظام کا آغاز 1977 کے تیل کے بحران کے تناظر میں توانائی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کیا گیا تھا، جبکہ یورپی یونین نے 1996 سے تمام رکن ممالک کے لیے یکساں تاریخوں کا نظام اپنایا۔ تاہم، سال میں 2 مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے کے اس روایتی نظام کی افادیت پر طویل عرصے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سال 2018 میں یورپی کمیشن نے عوامی مشاورت کے بعد اس نظام کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی، جس میں 84 فیصد شرکا نے اس عمل کے خاتمے کی حمایت کی تھی۔ یورپی پارلیمان نے مارچ 2019 میں اس کی منظوری بھی دی تھی، لیکن پڑوسی ممالک کے درمیان وقت کے مختلف نظاموں سے پیدا ہونے والی ممکنہ مشکلات اور سرحد پار سرگرمیوں پر اثرات کے باعث یہ منصوبہ اب تک نافذ العمل نہیں ہو سکا۔ یورپی کمیشن اس وقت اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک نئے مطالعے پر کام کر رہا ہے جس کے نتائج 2026 کے اختتام سے قبل متوقع ہیں، اور فی الحال 2001 کی یورپی ہدایت کے تحت یہی روایتی نظام برقرار ہے۔