ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں بحال، حوثیوں کی دھمکی کے پیش نظر سیکیورٹی الرٹ جاری
فضائی آپریشن کی بحالی، ٹرمینلز مخصوص کر دیے گئے، حوثیوں کی جانب سے وارننگ جاری
ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ جہاں پروازوں کا سلسلہ دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تقریباً 2 ہفتے کی معطلی کے بعد پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کے اعلان کے مطابق نئے انتظامات کے تحت ٹرمینل ون اندرونِ ملک پروازوں جبکہ ٹرمینل ٹو سعودی فضائی کمپنیوں کی بین الاقوامی پروازوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اور فلائٹ ریڈار کی معلومات کے مطابق آج صبح ریاض ایئرپورٹ سے پہلا طیارہ جدہ کے لیے روانہ ہوا۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے باعث ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا تھا۔ 10 اکتوبر کو ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ پروازیں بحال کرنے کے اعلان کے باوجود حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ استعمال نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا ہے کہ قومی ہنگامی نظام کے ذریعے ریاض کے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، سعودی فوجی اتحاد نے ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل بھی فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر جاری کیے گئے الرٹس کچھ دیر بعد واپس لے لیے گئے ہیں۔