لاہور اور پشاور میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، اسلام آباد میں 9 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

رپورٹ جاری، ہوا کا معیار انتہائی خراب، شہریوں کے لیے انتباہ جاری

October 26, 2026 · اہم خبریں
لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی شدت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یکم سے 25 اکتوبر 2026ء کے دوران لاہور ملک کے 3 بڑے شہروں میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی کا شکار رہا، جہاں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 92 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں آلودگی کی یہ اوسط 49 جبکہ پشاور میں 87 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی۔ تینوں شہروں میں باریک ذرات کی مقدار عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ لاہور اور پشاور میں ان 25 دنوں میں سے ہر روز فضائی آلودگی پاکستان کی مقررہ قانونی حد سے تجاوز کرتی رہی۔

دستاویز کے مطابق لاہور میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار عالمی ادارۂ صحت کی گائیڈ لائنز کے مقابلے میں تقریباً 6.1 گنا زیادہ رہی۔ شہر میں آلودگی کی بلند ترین سطح 23 اکتوبر کو ریکارڈ کی گئی، جب پی ایم 2.5 کی مقدار 184 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس 12 اکتوبر کو آلودگی کی کم ترین سطح 48 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں 25 میں سے تمام 25 دن پی ایم 2.5 کی مقدار پاکستان کی قانونی حد 35 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے زیادہ رہی، جبکہ ایئر کوالٹی انڈیکس 169 درج کیا گیا جو غیر صحت بخش زمرے میں آتا ہے۔

اسلام آباد میں بھی اکتوبر کے پہلے 25 دنوں کے دوران فضائی آلودگی کی صورت حال انتہائی تشویش ناک رہی جہاں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 49 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے تقریباً 3.3 گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ میں اکتوبر کے ان ایام کو 2018ء سے دستیاب ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کے لیے بدترین ادوار میں شمار کیا گیا ہے۔ ادھر پشاور میں آلودگی کی بلند ترین سطح 23 اکتوبر کو 146 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، اور یہ دور گزشتہ 6 برس کے تقابلی ریکارڈ میں شہر کا تیسرا بدترین دور قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین اور رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی موجودہ سطح پر شہریوں کو طویل وقت تک کھلی فضا میں سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دل یا پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور گھروں کی کھڑکیاں بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔