تحریک انصاف کے پارلیمانی اجلاس میں تلخ کلامی، ارکان کی قیادت پر سخت تنقید
گرما گرم بحث، فیصل امین گنڈاپور کی واک آؤٹ، بیرسٹر گوہر کی وضاحت سامنے آگئی۔
تحریک انصاف کا پارلیمانی اجلاس
پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے 7 گھنٹے طویل اجلاس میں شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جہاں اراکین نے لانگ مارچ کی حکمت عملی اور سیاسی امور پر قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور کی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے تلخ کلامی ہوئی جو پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو اپوزیشن لیڈر کی منظوری سے مشروط کرنے کے معاملے پر ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے مؤقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی نے تمام اختیارات اپوزیشن لیڈر کو دیے ہیں اور حتمی اعلامیہ ان کی منظوری سے ہی جاری ہوگا۔ اس پر فیصل امین گنڈاپور طیش میں آگئے اور مؤقف اختیار کیا کہ جب فیصلے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے مشروط ہیں تو انہیں بھی یہاں موجود ہونا چاہیے۔ اس دوران فیصل امین گنڈاپور نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔
اجلاس کے دوران اراکین نے لانگ مارچ کے حوالے سے پلان اے، بی اور سی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے اور شکوہ کیا کہ حکمت عملی تو بنائی گئی مگر اراکین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اراکین نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز سمیت سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جبکہ نور الحق قادری نے اجلاس میں بارہا مذاکرات پر زور دیا۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی کو غیر مؤثر کرنے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی امور کے حتمی فیصلے عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہی کیے جاتے ہیں اور تمام فورمز اپنے دائرہ کار میں کام کر رہے ہیں۔