آسیہ مسیح کو کمانڈوزپاکستان سے باہر لےکر جائیں گے۔ شان تاثیر

پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر نے آسیہ بی بی کے کینیڈا جانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسیہ پاکستان میں ہی ہے اور آسیہ کو کمانڈوز کے ذریعے سے پاکستان سے باہر بھیجا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے ایک بیان میں شان تاثیر کا کہناتھا کہ آسیہ کے بارے میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں پھیلی گئی خبر یں درست نہیں ، آسیہ پاکستان میں ہی ہے اور وہ وہاں موجود ہے جہاں وہ پہلے بھی تھی،آسیہ ایک آرام دہ اور پر سکون جگہ پر ہے جہاں اس کی دیکھ بھال کی جار ہی ہے۔

شاہ تاثیر کا کہنا تھا کہ آسیہ کو پاکستان سے باہر جانے سے نہیں روکا گیا ، آسیہ کی سیکیورٹی کی وجہ سےاسے عام شہریوں کی طرح سے باہر جانے نہیں دیا جا سکتا،آسیہ مسیح کو کمانڈوز پاکستان سے باہر لےکر جائیں گے۔

ان کا مزید کہناتھا کہ آسیہ کے معاملے میں تاخیر غیر معمولی نہیں ہے ، حکومت اس انتظار میں ہے کہ جب میڈیا اور عوام کی توجہ اس معاملے سے ہٹ سے ہٹ جائے تو آسیہ کو بیرون ملک بھیج دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کی نظرثانی اپیل مسترد ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےآسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کا کہناتھا کہ آسیہ بی بی کے بارے سب علماء نے کہاکہ عدالتی فیصلے کے باوجود قتل کردیں گے اس لیے انہیں بیرون ملک جانا چاہیےاور آسیہ آج رات تک پاکستان چھوڑ دے گی۔

اگلے روز آسیہ کے وکیل سیف الملوک نے جرمن اخبار ایف اے زیڈ کو فون پر بتایاتھا کہ آسیہ کینیڈا میں اپنے خاندان کے پاس پہنچ کی ہے۔آسیہ کی بیٹیاں گذشتہ ہفتے ہی کینیڈا پہنچ گئی تھیں جبکہ سپریم کورٹ میں آسیہ کی بریت کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد کینیڈا کی حکومت نے آسیہ کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ کینیڈا کے ایک بشپ نے بتایا تھا کہ چونکہ کینیڈا میں بھی اسلام پسندوں کی جانب سے آسیہ پر حملے کا خدشہ ہے لہٰذا اس کی شناخت بدلی جا سکتی ہے اور وہ کسی گائوں میں رہے گی۔

واضح رہے 29 جنوری کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف نظر ثانی کی اپیل خارج کر دی ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے نظرثانی اپیل پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار ایک بھی وجہ نہیں بتا سکا جسکی بنیاد پرنظر ثانی کی جاسکے۔

تبصرے بند ہیں.