وکلا کے برے عمل سے میرا سرشرم سے جھک گیا۔اعتزازاحسن

رہنما پیپلزپارٹی وبیرسٹراعتزا زاحسن نے وکلا کے پی آئی سی حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا سر شرم سے جھک گیا۔

اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ احتجاج کس وجہ سے اورکس جگہ پرکیا جارہا ہے تاہم وکلا کے بُرے عمل سے میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ہماری وکلا تحریک کے دوران ایک پتا بھی نہیں ٹوٹا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ بیرون ملک وکلا کے ہر سال انتخابات کرائے جاتے ہیں اوروہ اس میں مصروف رہتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں وکلا کے الیکشن دیر سے ہونے کے باعث وکلا کے امیدوار اپنی عزت کا خیال نہیں کرتے۔

اعتزاز احسن نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان میں ہر تین سال بعد وکلا بارکے الیکشن بر وقت ہو جانے چاہیے ۔

وکلاء کے حملے کے دوران خاتون کے جاں بحق ہونے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ خبریں موصول ہو رہی ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ میں نوجوان وکلا  کو مشورہ دیتا ہوں کہ ہسپتال کے باہر ہنگامہ کرنے کی بجائے معاملے کو بار میں حل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا بھی کوئی کردارادا نظرنہیں آرہا۔

یاد رہے کچھ دیر قبل وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زبردستی داخل ہو گئے تھے،پولیس کی بھاری نفری بھی پہنچ گئی۔

تبصرے بند ہیں.