اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کا مقدمہ ملک ریاض کی بیٹیوں کیخلاف درج

پاکستان کی معروف اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کا مقدمہ تین خواتین سمیت 15 نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔

مقدمے میں موقف اختیارکیا ہے کہ عظمیٰ خان شوبز سے منسلک ہیں،وہ اپنی بہن ہما خان کے ہمراہ ڈیفنس فیز5 میں واقع گھر میں رہائش پذیر ہیں،اداکارہ گھر میں اعتکاف پر بیٹھی تھیں اورعید کا اعلان ہو نے کے بعد ساڑھے دس بجے اعتکاف سے اٹھیں اوراپنی بہن کے ساتھ ٹی وی لاﺅنج میں آ کر بیٹھ گئیں۔

اسی دوران اچانک گھر کا اندرونی دروازہ توڑ کرعثمان ملک کی زوجہ ، پشیمینہ ملک اورعنبر ملک جو کہ ریاض ملک کی بیٹیاں ہیں،اندر داخل ہوئیں اور داخل ہوتے ہی ہم دونوں بہنوں پراسلحہ تان لیا اورآمنہ عثمان ملک نے شیشے کی بوتلیں میری بہن کو ماریں جس کے باعث وہ زخمی ہو گئی جس کے بعد پشمینہ اورعنبر دختران ریاض ملک نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔

دوسری جانب عظمیٰ خان اوران کی بہن کومبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے والی خاتون بھی سامنے آ گئیں،آمنہ عثمان نامی خاتون نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہاہے کہ ان کے شوہرعثمان ملک کا ملک ریاض سے کوئی تعلق نہیں۔

خاتون نے کہا کہ وہ عظمیٰ خان کو متعدد بار وارننگز دے چکی تھیں لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آئی۔ عظمیٰ خان نے کہا کہ وہ اعتکاف سے اٹھی ہے، یہ کون سا اعتکاف ہے کہ آپ تین دن میرے شوہر سے لگاتار ملتی رہیں، یہ ساڑھے 10 بجے اعتکاف سے اٹھی اور ساڑھے 11 بجے شراب اورکوکین کی لائنیں چل رہی تھیں۔

خاتون کے مطابق انہوں نے عظمیٰ خان کے گھر پر حملہ نہیں کیا بلکہ جس گھر میں وہ موجود تھیں وہ ان کے شوہر کا دوسرا گھر ہے اور انہیں اس گھر میں جانے کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے اداکارہ پر کیروسین نہیں چھڑکا بلکہ وہی شراب انڈیلی جو وہ پی رہی تھی جس حالت میں میں نے عظمیٰ خان کو پکڑا ہے، کوئی عورت میری جگہ ہوتی تو اس سے زیادہ تباہی کرتی، جو ان کی سائڈ لے رہے ہیں ان سے کہتی ہوں کہ آپ گھر تڑوانے والی عورت کے ساتھ کھڑے بھی کیسے ہوسکتے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی نہایت اہم اور قابل ذکر ہے کہ خاتون صحافی فاطمہ چٹھہ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے نیا انکشاف کردیاہے،انہوں نے کہا کہ ”عظمیٰ خان نے لاہور منتقل ہونے سے قبل اپنے شوہر سلمان بیگ سے طلاق لے لی تھی ، یہ دونوں کراچی میں واقع فلوریڈا اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر تھے ۔“

تبصرے بند ہیں.