سینیٹ اورقومی اسمبلی انتخابات آئین کے تحت نہیں ہوتے۔اٹارنی جنرل

سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پراٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سینیٹ ،قومی اسمبلی انتخابات آئین کے تحت نہیں ہوتے ،قانون کے تحت ہونے والے انتخابات کاباب ہی الگ ہے ،آرٹیکل 226 کا اطلاق ہرالیکشن پر نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کررہا ہے۔اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعظم کا الیکشن نہیں کراتا ،الیکشن کمیشن چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی کاالیکشن نہیں کراتا، اسپیکرو ڈپٹی اسپیکر کاانتخاب بھی الیکشن کمیشن نہیں کراتا،ان عہدوں کاانتخاب الیکشن ایکٹ کے تحت بھی نہیں ہوتا ۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ ارکان سینیٹ کاانتخاب الیکشن ایکٹ کے تحت ہوتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آئین میں اسپیکر، چیئرمین سینیٹ الیکشن کاطریقہ کاردج نہیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزرائے اعلیٰ کاانتخاب بھی الیکشن کمیشن نہیں کرتا،وزیراعظم ،چیئرمین سینیٹ اوراسپیکرکے الیکشن ایوان خود کراتاہے ۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 53 میں سپیکر کے انتخابات کا ذکر ہے ،صدر کے انتخاب میں الیکشن کمیشن کارول ہوتا ہے، چیئرمین ،ڈپٹی سپیکر الیکشن میں پریزائیڈنگ افسرہوتے ہیں ،سپیکرانتخاب میں سبکدوش سپیکرپریزائیڈنگ افسرہوتے ہیں ،ایوان میں موجود ممبران کی اکثریت سے ہی انتخاب ہوسکتا۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزیراعظم الیکشن میں ایوان کی مخصوص نمائندگی درکار ہوتی ہے،آرٹیکل 60 میں چیئرمین سینیٹ انتخابات کاذکر ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آرٹیکل 53 ،60 میں ذکر نہیں الیکشن اوپن بیلٹ سے ہو یا خفیہ۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرئیکل266 کے تحت سپیکر ،چیئرمین الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوگا ،آئین میں ہے اسپیکر الیکشن گزشتہ اسمبلی کا اسپیکرکرائے گا ،منتخب اسمبلی کاپہلا کام ہی اسپیکرکاالیکشن ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ سینیٹ ،قومی اسمبلی انتخابات آئین کے تحت نہیں ہوتے،قانون کے تحت ہونے والے انتخابات کاباب ہی الگ ہے،آرٹیکل 226 کا اطلاق ہرالیکشن پرنہیں ہوتا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتو مخصوص نشستوں کے الیکشن ہو ہی نہیں سکتے ،قومی صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن قانون کے تحت ہوتے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہاکہ تمام قوانین بنے ہی آئین کے مطابق ہیں ،مخصوص نشستوں پر پارٹیاں نمائندگی کی فہرست دیتی ہیں ،تائید کنندہ ہوں تو آزادمیدوارسینیٹ الیکشن لڑسکتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ جرمنی کی پارٹیاں طے کرتی ہیں کون کون رکن اسمبلی سمبلی بنے گا،جرمنی میں بھی مناسب نمائندگی کاطریقہ کار رائج ہے ، اٹارنی جنرل نے کہاکہ جرمنی والا طریقہ کار پاکستان میں مخصوص نشستوں پر ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ پارٹی ٹکٹ پرالیکشن لڑنے والے ڈسپلن کے پابندہوتے ہیں ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پارٹی سپلن کی پابندی وزیراعظم اوربجٹ منطوری پر ہی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ایم پی اے کو خفیہ رائے شماری میں آزادانہ ووٹ کاحق اہم سوال ہے،خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینابے ایمانی ہوگی، کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے توسامنے آکر دے ۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر نااہلی نہیں ہو سکتی ،عدالت نے کہاکہ آرٹیکل 226 ہے وزیراعظم ،وزیراعلیٰ کے سوا الیکشنزمیں خفیہ ووٹنگ ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.