کوئینی کے آنسو!۔

اس کی آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں تھا۔ مگر یہ آنسو غم کے نہیں، خوشی کے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’میں بہت بہکی ہوئی تھی، دنیا کی رنگینیوں میں کھوئی ہوئی تھی، رات اور دن انتہائی مصروف تھے۔ میرے مداحوں کی بھی کمی نہ تھی۔ میری اک اک ادا کو اہمیت دی جاتی تھی۔ کلبوں کی میں زینت ہوا کرتی تھی، پیسے کی ریل پیل تھی، نئی سے نئی گاڑی میرے پاس تھی۔ عمدہ اور مزین گھر تھا۔ شہرت، عزت، دولت سب کچھ میرے گھر کی لونڈی۔ لیکن! اس کے باوجود میرا دل بے قرار تھا۔ میں چین و سکون کو ترستی تھی۔ اسکرین پر آرٹیفیشل مسکراہٹ میری مجبوری تھی، مگر قلب و روح مسرت سے ناآشنا تھے۔ مجھے زندگی گزارنا ادھورا لگ رہا تھا۔ کسی چیز کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ میں اپنی زندگی میں تبدیلی لانا چاہتی تھی۔ ایسی تبدیلی جس میں سکون ہو، طمانیت ہو، ٹھہراؤ ہو۔ میرے دل کی آواز رنگ لائی اور میری کایا ہی پلٹ گئی۔“ یہ تاثرات تھے 20 سالہ کوئینی پیڈیلا (Queenie Padilla) کے جو کہ فلپائن کی معروف اداکارہ تھی۔ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد شوبز لائف کو خیر باد کہہ دیا۔ کوئینی فلپائنی اداکارہ روبن پیڈیلا کی بیٹی ہے، گویا اداکاری اسے وراثت میں ملی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ حج کیلئے چلی گئی۔ اپنے جسم کی نمائش کرنے والی لڑکی نے احرام کی چادروں میں خود کو چھپا لیا تھا۔ اللہ کے گھر کا نظارہ کرنے اور حج کی ادائیگی کے بعد ایک انگریزی چینل نے اس کا انٹرویو لیا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ روئے جا رہی تھی۔ آنسووں کی جھڑی لگ گئی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ مجھے لگ رہا تھا کہ میرا کوئی ہمدرد نہیں، میں ایک گنہگار انسان ہوں۔ پھر میرے رب نے مجھ ناچیز کو اپنے گھر بلا لیا، میں اس کے گھر کو دیکھے جا رہی تھی۔ آنسو آنکھوں سے چھم چھم بہہ رہے تھے اور زبان پر شکر کے کلمات تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ اسلام لانے کی خوشی کے آنسو تھے یا کہ بیکار زندگی گزارنے پر حسرت کے اشک، میں نے اپنے کئی سال غیر حقیقی زندگی میں گزار دیئے، اس کا بے حد افسوس ہے۔ لیکن خدا کا شکر! اب میں اپنے آپ کو رب کے بے حد قریب پاتی ہوں۔ اسلام اپنانے سے مجھے تحفظ ملا ہے۔ کوئینی پیڈیلا نے اپنا نیا نام خدیجہ رکھ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اب میں جانتی ہوں کہ میری زندگی کا حقیقی مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ اسلام ایک امن والا مذہب ہے۔ اس میں ہر قسم کے لوگ داخل ہو جاتے ہیں۔ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں، اسلام مکمل طور پر انسان کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ میں بہت خوش ہوں کہ میں ایک مسلمہ ہوں۔ اب میں اسلام کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کروں گی۔ واضح رہے کہ فلپائن عیسائی ملک ہے، جہاں 90 فیصد عیسائی آباد ہیں، 80 فیصد رومن کیتھولک ہیں، کچھ لوگ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلمان تو کم تعداد میں ہیں۔ فلپائن میں اسلام کا یہ ایک نیا پودا نمو پذیر ہے، اللہ تعالیٰ اسے تناور درخت بنائے، جس کے زیر سایہ لوگ مسلمان ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

99 کا قاعدہ!

میرے پاس دنیا جہان کی ہر راحت کا سامان ہے لیکن پھر بھی دل خوش نہیں۔ لیکن میرے خادم کے پاس کچھ نہیں مگر ہر وقت خوش وخرم رہتا ہے۔