ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کر دیا

ایران کے پاس موجود ’افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ

May 11, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کر دیا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی ہفتے کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران میں جنگ ’جلد ختم ہو جائے گی‘۔ تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ’ختم‘ کیے بغیر ایران کے خلاف جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس سے قبل امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے اور اس کے پاس موجود ’افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی بھی مرحلے پر ایسا کر سکتے ہیں، جب چاہیں۔ امریکی فوج کے ذریعے اس مواد کی نگرانی کر رہی ہے، اور اگر کسی نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی تو ہمیں فوراً پتا چل جائے گا اور ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’ایران کی قیادت کے اہم حصے ختم ہو چکے ہیں۔ ایران کی اے ٹیم جا چکی ہے، بی ٹیم جا چکی ہے، اور سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے، پھر دوبارہ معاہدہ کرتا ہے اور اسے بھی توڑ دیتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ آج وہاں سے نکل بھی جائے تو ایران کو دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کرنے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم نہ کیا ہوتا تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ چکا ہوتا اور وہ اسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں استعمال کرتا۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں اور ان کے بقول یہ اقدامات اسرائیل، سعودی عرب، عراق، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں کی مدد کے لیے کیے جا رہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ مے دعویٰ کیا کہ امریکہ تیل اور گیس کی پیداوار میں روس اور سعودی عرب دونوں سے کہیں زیادہ پیداوار کرتا ہے۔