ثالثی کوششوں کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران جارہے ہیں۔روئٹرز
امریکی اور ایرانی اختلافات کم کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں کا حصہ
رائٹرز نے ایرانی خبر رساں ایجنسی اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (آئی ایس این اے) کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور مشاورت کے سلسلے میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کا حصہ ہے۔
اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں موجودہ فریم ورک، تفصیلات اور اعتماد سازی کے اقدامات پر گفتگو ہو رہی ہے۔مستقل جنگ بندی معاہدے کے لیے پہلے جمع کرائے گئے مسودے نے کچھ حد تک فاصلہ کم کیا ہے، تاہم مزید پیش رفت کے لیے واشنگٹن کی جانب سے مناسب طرزعمل ضروری ہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیر کا یہ دورہ فاصلوں کو کم کرنے اور مفاہمتی یادداشت کے رسمی اعلان تک پہنچنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق دورے کا مقصد وہ لمحہ پیدا کرنا ہے جب دونوں جانب باہمی سمجھوتے کا اعلان کیا جا سکے۔
پاکستان کی طرف سے فیلڈ مارشل کے دورے کے حوالے سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ۔ تاہم، پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں تہران کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ یہ پاکستانی وزیر داخلہ کا ایک ہفتے سے کم عرصے میں دوسرا دورہ ہے۔
پاکستان نے 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ حملوں کے بعد جنگ بندی اور بعد ازاں مذاکرات میں اہم ثالثی کردار ادا کیا، جسے صدر ٹرمپ، ایرانی حکام اور دیگر ممالک نے سراہا۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے، تاہم پاکستان اب بھی مسلسل کوششیں کر رہا ہے کہ مستقبل میں جنگ بندی اور کسی مفاہمتی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔