بھارت میں احتجاج کےدوران ٹنڈولکر سمیت کئی معروف کھلاڑیوں کاطلبہ سے اظہاریکجہتی
شفاف تعلیمی نظام اور میرٹ پر مبنی اصلاحات کا مطالبہ کر دیا
فائل فوٹو
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے آنجہانی والد، جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے، تاہم ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ یہ احساس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں، جبکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھتے، لیکن ان کا یقین ہے کہ کچھ معاملات سب کے مشترکہ ہوتے ہیں اور تعلیم انہی میں سے ایک ہے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات دیکھ کر دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے اور ان کا خیال ہے کہ طلبہ درست کام کر رہے ہیں۔
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے کہا کہ ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی فلاح و بہبود روشن بھارت کی بنیاد ہے اور بات چیت کے ذریعے مستقبل کے لیے قابل قبول حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے انہیں یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے اور امید ہے کہ مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔