پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا
اہم بیٹھک، کاروباری آسانیوں پر غور، وزیراعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کے وفد کی معاشی امور پر اہم ملاقات کا منظر
اسلام آباد میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی مذاکرات کا دوسرا دور آج منعقد ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اس اہم دور کے دوران آئی ایم ایف کا وفد اوورسیز انوسٹمنٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان سے ملاقات کرے گا، جس میں معاشی امور، کاروباری آسانیوں، بجلی کی لاگت اور ترسیل کے نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تکنیکی مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، بنیادی شرح سود، ایکسچینج ریٹ اور ٹیکس اصلاحات جیسے امور زیرِ بحث آئेंगे۔ اس کے علاوہ وفد کو پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، یورو بانڈ کے کامیاب اجرا اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مانیٹری پالیسی کے مؤثر استعمال سے متعلق امور بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی تنازعات اور مہنگائی کے بیرونی دباؤ کے باوجود محتاط مالیاتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کامیابی کے ساتھ معاشی بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے معاشی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور ساختی اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان کی معاشی کارکردگی اور حکومتی کوششوں کو سراہا۔