لاہور ہائیکورٹ کا ایف آئی آر کا فونٹ بہتر کرنے کا حکم، آئی جی پنجاب کا سخت کارروائی کا انتباہ
لاہور ہائیکورٹ کی سخت سرزنش، آئی جی پنجاب کی پیشی، آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب
لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت اور آئی جی پنجاب کی میڈیا سے گفتگو کا منظر
لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ بھر میں پولیس کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر کا فونٹ سائز انتہائی چھوٹا ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر بڑا اور یکساں کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب سے 29 ستمبر کو عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں شہری جمیل کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کی۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایف آئی آر کے متن اور کاپیوں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے کہ یہ ایف آئی آر تو عینک لگا کر بھی نہیں پڑھی جا رہی، کم از کم ایک ہی فونٹ رکھا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جب 3 صفحات کا کام ایک صفحے پر ہوگا تو فونٹ تو چھوٹا ہوگا، کیا ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے؟ عدالت نے کاغذ کی بچت کے عذر کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کاغذ بچاتے بچاتے شہریوں اور عدالت کی آنکھیں ضائع ہو گئی ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران آئی جی پنجاب نے ایف آئی آر کا فونٹ سائز چھوٹا ہونے کا اعتراف کیا اور عدالت کو آگاہ کیا کہ اس سلسلے میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) سے معاونت حاصل کی گئی ہے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے کیونکہ یہ کوئی اتنا بڑا کام نہیں ہے اور اسے 1 یا 2 روز میں مکمل کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے معاملے پر مزید سماعت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے مقررہ تاریخ تک عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔
بعد ازاں عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کو کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے احتجاج کرنا ہے تو متعلقہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) سے باضابطہ اجازت لی جائے، تاہم ان کے علم میں نہیں ہے کہ کسی نے احتجاج کے لیے کوئی درخواست دی ہو۔ ایک سوال کے جواب میں آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ پولیس میں خود احتسابی کا ایک بہترین نظام موجود ہے اور کسی کے خلاف بھی کوئی امتیازی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے گھروں میں توڑ پھوڑ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن شہریوں کو بھی ایسی کوئی شکایت ہے وہ فوری طور پر پولیس کے شکایت سیل سے رجوع کریں۔