امریکی حکام سے ملاقات پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مواخذے کی تحریک پیش
اہم پیش رفت، ایرانی پارلیمنٹ میں سوال اٹھا دیا گیا، تہران کا موقف کمزور ہوا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی حکام کی نیویارک میں ملاقات کے بعد پارلیمنٹ میں پیدا ہونے والی صورتحال کا منظر۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی حکام سے ملاقات پر ایرانی پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مواخذے کی تحریک پیش کی جارہی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی امریکی حکام سے ملاقات پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
ابراہیم رضائی نے پارلیمنٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ عباس عراقچی واضح کریں کہ انہوں نے امریکی نمائندے سے کس اختیار کے تحت ملاقات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مطالبات اور شرائط پہلے ہی امریکا تک پہنچائی جاچکی ہیں، اس لیے شرائط کی آڑ میں اس طرح کی ملاقات کا جواز تراشنا کمزوری کی علامت ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے زور دیا کہ وزارت خارجہ کوئی پالیسی ساز ادارہ نہیں بلکہ یہ صرف پالیسیوں پر عملدرآمد کا مجاز ہے، اور پارلیمنٹ ایرانی قوم کے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ایرانی حکام سے ہونے والی گفتگو میں کوئی بڑی پیشرفت سامنے نہیں آئی، تاہم اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان کم از کم براہ راست بات چیت کا آغاز ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران اور اس کی حامی تنظیموں نے سفارتی تنصیبات پر حملے کیے جو کہ ایک غیر معمولی اقدام ہے، جبکہ تہران نے کویت میں موجود امریکی سفارتخانے کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے پاس اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے کافی وسائل اور گولہ بارود موجود ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات حالات کے سازگار ہونے سے مشروط ہے، جبکہ فریقین کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔