فرانس نے نیتن یاہو کے طیارے کو فضائی حدود سے گزرنے دینے کا دفاع کردیا
عالمی فوجداری عدالت کے قیام کی بنیاد بننے والے روم اسٹیٹیوٹ میں ایسی کوئی واضح پابندی موجود نہیں
فرانس نے نیتن یاہو کے طیارے کو فضائی حدود سے گزرنے دینے کا دفاع کردیا
پیرس: فرانس نے عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ کے باوجود ان کے طیارے کو فرانسیسی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفافرے نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کے طیارے کو فرانسیسی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینا بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق فرانس اس سے قبل بھی اسرائیلی وزیراعظم کے طیارے کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے چکا ہے۔
فرانسیسی ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت کے قیام کی بنیاد بننے والے روم اسٹیٹیوٹ میں ایسی کوئی واضح پابندی موجود نہیں جس کے تحت رکن ممالک کسی ریاستی طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے سے روکنے کے پابند ہوں، اگر اس طیارے میں گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کرنے والا شخص موجود ہو
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق نیتن یاہو کا طیارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جاتے ہوئے یونان، اٹلی اور فرانس کی فضائی حدود سے گزرا۔ تینوں ممالک روم اسٹیٹیوٹ کے فریق ہیں۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانس کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے دوہرے معیار سے تعبیر کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ فرانس ایک جانب بین الاقوامی قانون اور انصاف کے احترام پر زور دیتا ہے جبکہ دوسری جانب نیتن یاہو کے طیارے کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے
عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اسرائیل عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
فرانس نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیل اور شام کے درمیان 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کی پاسداری پر بھی زور دیا اور اقوام متحدہ کی ڈس انگیجمنٹ آبزرور فورس کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔