میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پولیس پر شواہد ضائع کرنے کا انکشاف

انویسٹی گیشن پر سوالات، اہل خانہ کا جے آئی ٹی کیلیے دوبارہ درخواست کا اعلان، انصاف کا مطالبہ۔

September 27, 2026 · اہم خبریں

کراچی کے تاجر میر رضا کے قتل کو 60 روز مکمل ہونے پر انصاف کے حصول کے لیے سی ویو پر ایک احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں متوفی کے اہل خانہ، سول سوسائٹی کے ارکان اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ واقعے کو 2 ماہ گزرنے کے باوجود پولیس اور حکومت اصل ملزمان کا پتا لگانے میں ناکام رہی ہے اور الٹا متاثرہ خاندان کی کردار کشی کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی سماعت کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے روبرو اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کارروائی کے دوران ریمارکس دیے کہ پہلی تفتیشی ٹیم نے کیس کے شواہد جان بوجھ کر ضائع کیے اور کرائم سین کی جھاڑیاں تک جلا دی گئیں۔ کمیشن کی رپورٹ اور کارروائی کے مطابق، کیس کے پہلے تفتیشی افسر ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے چند دنوں میں تفتیش کا بیڑہ غرق کیا اور 52 میں سے صرف ایک کیمرے کی فوٹیج حاصل کی۔

جوڈیشل کمیشن نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی مداخلت پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس عمر سیال نے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی اور دیگر عہدیداروں کی جانب سے غیر قانونی طور پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور اس میں تبدیلیاں کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ متعلقہ طبی حکام کے اقدامات سے نہ صرف کمیشن بلکہ پورا محکمہ صحت متنازع بن رہا ہے۔

متوفی کے والد میر حسین کا کہنا تھا کہ جج کا کام کرائم انویسٹی گیشن نہیں بلکہ فیکٹ فائنڈنگ دینا ہے جبکہ اصل قاتلوں کو پکڑنے کے لیے جوڈیشل انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی ضرورت ہے۔ میر رضا کی بہن علیشبہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی جے آئی ٹی کی پچھلی درخواست مسترد کردی گئی تھی، تاہم اب کمیشن کی سماعتوں اور پولیس کے اعترافات کے بعد اہل خانہ ایک بار پھر جے آئی ٹی کی تشکیل کیلیے عدالت اور متعلقہ فورمز پر درخواست دائر کریں گے۔