پاکستان سے سرحد پار کر کے آنے والے 28 عسکریت پسند مارے گئے،افغان وزارت دفاع کا الزام

مذکورہ گروہ ہفتے کے روز پاکستان کی سرحد سے ملحق ضلع کامدیش میں داخل ہوا تھا اور مبینہ طور پر افغانستان میں کارروائیوں کی تیاری کر رہا تھا

September 27, 2026 · اہم خبریں
پاکستان سے سرحد پار دراندازی، 28 عسکریت پسند مارے گئے: افغان وزارت دفاع

پاکستان سے سرحد پار دراندازی، 28 عسکریت پسند مارے گئے: افغان وزارت دفاع

کابل:افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی صوبے نورستان میں سرحد پار سے آنے والے ایک مسلح گروہ کے خلاف کارروائی کے دوران 28 عسکریت پسند ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوگئے۔ افغان حکام کے مطابق گروہ میں داعش سے وابستہ عناصر بھی شامل تھے۔

افغان وزارت دفاع کے مطابق مذکورہ گروہ ہفتے کے روز پاکستان کی سرحد سے ملحق ضلع کامدیش میں داخل ہوا تھا اور مبینہ طور پر افغانستان میں کارروائیوں کی تیاری کر رہا تھا۔ افغان فورسز نے گروہ کے خلاف آپریشن کیا، جس کے دوران ہلاکتیں اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی ملیشیاؤں نے گروہ کے ارکان کو معاونت فراہم کی، جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں سابق افغان حکومت کے سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ افغان وزارت دفاع کا مزید کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران بچ جانے والے عسکریت پسند سرحد پار پاکستانی ملیشیاؤں کے مبینہ ٹھکانوں کی جانب فرار ہوگئے۔

وزارت دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستانی مسلح اہلکاروں اور ملیشیا ارکان نے مذکورہ گروہ کے ساتھ رابطہ کاری کی، تاہم جھڑپ شروع ہونے کے بعد وہ پیچھے ہٹ گئے۔ افغان حکام نے پاکستانی انٹیلی جنس پر سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان منتقل کرنے، تربیت دینے اور بعد ازاں نورستان بھیجنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج اور وزارت اطلاعات کی جانب سے فوری طور پر افغان وزارت دفاع کے ان الزامات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغان وزارت دفاع کے بیان اور اس میں بتائی گئی ہلاکتوں و زخمیوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ واقعہ 21 ستمبر کو افغانستان کے بعض علاقوں میں ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے ان حملوں میں 28 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

پاکستان طویل عرصے سے افغانستان پر اپنی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندوں کی موجودگی اور کارروائیوں کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔