ایرانی مسلح افواج کا دشمن کیلئے سرپرائز کا اعلان، نئی دفاعی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی وارننگ
اہم بیان، ٹرمپ اور نیتن یاہو کا تعاقب جاری رہے گا، بحر ہند میں بھی نشانہ بنائیں گے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
تہران (نیوز ڈیسک) ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں ملک نئی فوجی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بھرپور جواب دے گا اور دشمن کے لیے کئی قسم کے سرپرائز تیار ہیں۔
سرکاری میڈیا اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر دفاعی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی اور مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دی ہے، جس سے اس کی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج اس وقت انتہائی بہترین حالت میں ہیں جبکہ میزائل اور ڈرون پہلے کے مقابلے میں زیادہ جدید اور طاقتور ہو چکے ہیں۔
دستاویزات اور بیانات کے مطابق جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں قاتل قرار دیا اور اعلان کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ان کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، انہیں اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی اور تہران امریکا کو ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں اس کی سابقہ حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ادھر پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سیاسی امور کے نائب علی محمدی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بحر ہند میں موجود امریکی جنگی جہازوں اور ڈسٹرائرز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے جنگی جہاز اس علاقے کے قریب لانا ہوں گے، تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والا کوئی بھی جہاز اگر مقررہ راستے سے ہٹا تو وہ محفوظ نہیں رہے گا۔