خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی، پی ٹی آئی کی حکمت عملی بھی تیار

سیاسی کشیدگی میں اضافہ، وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان رسہ کشی عروج پر، حکمت عملی تیار۔

September 27, 2026 · اہم خبریں

پشاور اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جہاں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے یا ایمرجنسی لگانے کے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی جوابی وار کے لیے اپنی حکمت عملی طے کر لی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بات چیت کا آغاز 27 ستمبر کے احتجاج کو ملتوی کیے جانے کے بعد ہوا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے اعلان کے بعد سے صوبائی اور وفاقی حکومت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے لانگ مارچ کے لیے تاحال بضد ہے اگرچہ اسے 27 ستمبر سے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے لیکن دونوں طرف سے سیاسی محاذ آرائی برقرار ہے۔ ادھر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی یا استعفیٰ کے حوالے سے باقاعدہ چینل سے رابطہ ہونے پر ہی آئینی قدم اٹھایا جائے گا۔

دستاویزات اور آئینی ماہرین کے مطابق موجودہ سیاسی بحران کے پیش نظر وزیراعلیٰ کی نااہلی، ان کی تبدیلی، ان ہاؤس تبدیلی، اسمبلی تحلیل کرنے یا وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت صوبائی اسمبلی کے اراکین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں۔ اس مقصد کے لیے ایوان کے مجموعی اراکین کے 20 فیصد دستخطوں کے ساتھ اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک جمع کرائی جا سکتی ہے، جس پر 3 سے 7 روز کے اندر اسمبلی کا اجلاس ون پوائنٹ ایجنڈے پر طلب کرنا لازمی ہوگا۔

اسمبلی رولز 22 کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے طریقہ کار میں ایوان میں بحث کے بعد خفیہ رائے شماری کی جاتی ہے جس میں اراکین الگ لابیز میں جا کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو اسپیکر کی جانب سے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 130 کے سب کلاس 7 کے تحت گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کریں کہ وزیراعلیٰ ایوان میں اپنی اکثریت کھو چکے ہیں تو وہ انہیں ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔