مذاکرات کیلئے اتنے ہی تیار ہیں جتنے مقابلے کےلیے،عباس عراقچی
سفارتی حل کی خواہش، امریکا کی روش پر حیرت، آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران مذاکرات کے لیے اتنا ہی تیار ہے جتنا کہ مقابلے کے لیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم جنگ نہیں بلکہ خطے کے مسائل کا پائیدار سفارتی حل چاہتے ہیں۔
ایک نشریاتی ادارے این بی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے تہران کی تجاویز کو مسترد کیے جانے پر شدید حیرت ہوئی۔ ان کا ماننا تھا کہ ان تجاویز کے ذریعے حالات کو بحال اور معمول پر لایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ ایران کے مطالبات کوئی نئے نہیں ہیں، بلکہ یہ بنیادی حقوق ہیں جن کے احترام کا ہم مطالبہ کرتے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ تہران کو امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، کیونکہ ہماری اولین اور واحد ترجیح ملکی مفادات کا بھرپور تحفظ ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر امریکا کی جانب سے مخصوص اقدامات کیے جائیں تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم 8 ماہ قبل شروع ہونے والی جارحانہ جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں اور اپنے غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے اثاثوں اور رقوم کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔