خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے، طارق فضل چوہدری

آئین میں شق موجود، صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات، نفاذ سے گریز ممکن نہیں

September 27, 2026 · اہم خبریں
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام جاری ہے اور یہ آئینی آپشن کسی بھی وقت بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں ہیں اور وزیراعلیٰ نے آج تک شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد آپشنز زیر غور ہیں اور آئین پاکستان میں گورنر راج کا قانونی آپشن موجود ہے جسے ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ گورنر تبدیل نہیں کیا جائے گا کیونکہ موجودہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم ایک اچھے سیاستدان اور قابل ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ صوبائی حکومت کی بے حسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی پر قابو پانا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ صوبے میں آئی جی کی تعیناتی وفاقی حکومت کی منظوری سے ہوتی ہے لیکن پولیس ایکٹ میں تبدیلیاں کرکے وفاق کے اختیارات کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی ہے جو محض سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کیا گیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباسجیسے سیاسی رہنما صورتحال کو سمجھتے ہیں، محمود خان اچکزئی مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خاطر خواہ سپورٹ فراہم نہیں کی جا رہی۔ پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت کی تیاریاں مکمل ہیں اور تمام لوگ لانگ مارچ کا حشر دیکھ چکے ہیں، اس لیے 4 اکتوبر کو بھی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کامیاب نہیں ہوگا۔