اقوام متحدہ میںٹرمپ کی دھمکی،ایران کاعالمی ادارے سے سخت احتجاج
سفارتی کشیدگی میں اضافہ، ایرانی سفیر نے خط لکھ دیا، مذاکرات جاری رہیں گے
اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کا ایک منظر جہاں ایرانی سفیر نے امریکی صدر کی دھمکی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایران کو مٹانے کی دھمکی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باضابطہ طور پر معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھا دیا۔ دستیاب دستاویزات اور سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافون کو ایک تحریری خط ارسال کیا۔
ایرانی سفیر کے مطابق امریکی صدر کی یہ دھمکیاں اس لیے زیادہ سنگین اور تشویشناک ہیں کیونکہ یہ الفاظ اقوام متحدہ جیسے عالمی پلیٹ فارم سے کہے گئے۔ خط میں 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کا حوالہ دیا گیا، جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ان کے پاس ایران کو مٹانے کا راستہ بھی موجود ہے۔ ایران نے عالمی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بیانات کو محض سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے متعلق سنگین معاملہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ حملے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ان کی شرائط امریکا کو قبول نہیں۔ امریکی صدر کے مطابق ایران آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی پر بات کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے بڑی مقدار میں تیل گزارنے میں مدد دے رہی ہے۔ دریں اثنا، قطر اور خطے کے دیگر ثالث امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اہم معاملات پر تاحال اختلافات برقرار ہیں۔