آبنائے ہرمز پرمکمل کنٹرول ہے،کسی کو گزرنے نہیں دیں گے،ایرانی فوج کادعویٰ
کشیدگی میں اضافہ، امریکا کے ساتھ رواں ہفتے مذاکرات ہوں گے، ٹرمپ، آبنائے ہرمز مکمل بلاک ہے، ایرانی حکام۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایرانی بحریہ کی نقل و حرکت کا منظر۔
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں ایک طرف ایرانی عسکری قیادت نے اس آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، وہیں دوسری جانب امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور بھی متوقع ہے۔ ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈی نیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے پیر کے روز ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تیاریاں مکمل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ، خود آبنائے اور خلیج فارس اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ کے کنٹرول میں ہیں جبکہ مشرقی حصے پر ایرانی فوج کی بحریہ موجود ہے۔
دستاویزات اور خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی جاسوس آبدوز بھی پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی بحریہ کے مطابق ایک مربوط اور پیچیدہ انٹیلی جنس کارروائی کے دوران یو ایس ریموس 600 وہیکل نامی بغیر پائلٹ کے امریکی زیرِ آب ڈرون کو روکا گیا جو مبینہ طور پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون اس وقت ایرانی ماہرین کے قبضے میں ہے جو اس سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے پرامید ہیں اور تہران کے ساتھ بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں سہولت فراہم کر رہی ہے اور گزشتہ روز 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل اس آبی راستے سے نکالا گیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایران نے امریکا کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ اگر بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے اور پابندیاں ہٹا دی جائیں تو ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، تاہم امریکی صدر نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔