بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کو ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ

اپوزیشن کا سخت مؤقف، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی، ملک بھر میں احتجاج کا اعلان

September 28, 2026 · اہم خبریں
بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار جنہیں ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کے الزامات کا سامنا ہے۔

بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار جنہیں ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کے الزامات کا سامنا ہے۔

بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے ووٹر لسٹوں میں مبینہ بڑے پیمانے پر ردوبدل اور دھاندلی کے الزامات کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک معروف اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے 2 اعلیٰ عہدیداروں نے ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل سسٹمز کے فیصلوں پر 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 باضابطہ اعتراضات اٹھائے تھے۔

رپورٹ کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ گزشتہ سال سے شروع ہونے والی ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے دوران فہرستوں سے 130 ملین نام خارج کیے جا چکے ہیں، جس پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ درامدا منیترا کزگم اور کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت الیکشن میں کامیابی کے لیے ووٹر لسٹوں میں منظم طریقے سے ہیرا پھیری کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف غداری کے مقدمے اور انہیں برطرف کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا، نوجوانوں کی تنظیم کاک روچ جنتا پارٹی نے جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ دوسری طرف، حکومتی وزراء، حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمیشن کے اندر مختلف آراء اور مشاہدات کا پایا جانا ایک معمول کی بات ہے۔

یاد رہے کہ گیانیش کمار نے اس سے قبل اپنے دفاع میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے لیے نہ کوئی اپوزیشن ہے اور نہ ہی کوئی حکمران فریق، بلکہ سب برابر ہیں۔ تاہم حالیہ تنازع کے بعد ان کے آبائی علاقے میں ان کے خلاف وال چاکنگ بھی کی گئی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں ان کے خلاف تحریک بھی جمع کرا چکی ہیں۔