لانگ مارچ میں جانی نقصان کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر عائد ہوگی، محسن نقوی
اہم بیٹھک، گورنر راج کا عندیہ دے دیا گیا، سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے دوران
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران اگر کوئی ایک جان بھی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی صورت 9 مئی کے واقعات کو دہرانے کی اجازت نہیں دے گی اور اسلام آباد یا کسی بھی مقام پر دھاوا بولنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
لاہور اور پشاور میں اہم سیاسی و عسکری نوعیت کی سرگرمیوں کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے گورنر ہاؤس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس اور آئی جی ایف سی بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سرکاری ذرائع اور جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملاقات میں اس بات پر مکمل اتفاق کیا گیا کہ صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے جب بھی صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا۔ رہنماؤں نے اس امر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ لانگ مارچ کے دوران دہشت گردوں کو سکیورٹی چیک پوسٹوں سے بحفاظت گزرنے کی سہولت کاری فراہم کیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔
گورنر ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی وزراء کی جانب سے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ دوسری جانب آئی جی خیبرپختونخوا نے وفاقی وزیر داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی پولیس مکمل طور پر الرٹ ہے اور مختلف اضلاع کی پولیس لائنز سے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔