حوثیوں کومکہ اورمدینہ کو نشانہ بنانے کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے،سعودی اتحاد

سعودی اتحاد کی سخت وارننگ، یمنی حکومت کا ملک گیر فوجی آپریشن کا اعلان، کشیدگی کے تمام پرامن مواقع ختم ہو چکے ہیں۔

October 5, 2026 · بام دنیا
سعودی اتحادی افواج اور یمنی حکومت کی جانب سے حوثی ملیشیا کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے۔

سعودی اتحادی افواج اور یمنی حکومت کی جانب سے حوثی ملیشیا کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

سعودی عرب کی اتحادی افواج نے یمن کے حوثی باغیوں کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا بھرپور جواب دینا ضروری ہے۔ سعودی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ مملکت پر حملے روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو لاحق حوثی خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

دستاویزات اور جاری کردہ بیانات کے مطابق، حوثی گزشتہ کئی سال سے یمنی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ان کے جارحانہ اقدامات نے یمنی اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اتحادی افواج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ہر مشکل وقت میں یمن اور اس کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

دوسری جانب، یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے واضح کیا ہے کہ اس فوجی آپریشن کا بنیادی مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ یمنی علاقوں کو واپس لینا اور ملک بھر میں ریاستی عملداری کو مکمل طور پر بحال کرنا ہے۔ انہوں نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

صدارتی کونسل کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ حوثی ملیشیا کے خلاف یہ فیصلہ کن کارروائی کشیدگی کم کرنے کے تمام پرامن مواقع اور آپشنز ختم ہونے کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ریاستی افواج جو بھی شہر واگزار کروائیں گی، وہاں فوری طور پر بحالی اور تعمیر نو کا مرحلہ شروع کر دیا جائے گا۔

ادھر، یمنی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے عالمی برادری سے بھرپور حمایت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کو اپنی ریاست اور سلامتی بحال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور حکومتی کارروائی کا مقصد ملک بھر میں ریاستی خودمختاری بحال کرنا ہے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا طاقت کے ذریعے یمنی عوام پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہے اور ان کی کارروائیوں سے لاحق خطرات اب یمنی سرحدوں سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں، اس لیے تمام غیر قانونی ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔