بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اورطبی امداد کےمطالبات پر مذاکرات میں ڈیڈ لاک آیا
اہم پیش رفت، سلمان اکرم راجہ نے انکشاف کیا، وزیر داخلہ کا الزام مسترد
سلمان اکرم راجہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران دو اہم نکات پر بات چیت ختم ہوگئی اور حکومت ان کے مطالبات ماننے کو تیار نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دو دور ہوئے جو بالآخر بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے۔
سلمان اکرم راجہ نے وضاحت کی کہ تحریک انصاف کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق امور شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک اس وقت آیا جب خیبر پختونخوا میں امن کے قیام اور سیاسی جماعتوں کے جرگے کو سننے کے معاملے پر بات چیت ہوئی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو طبی پینل کا حصہ بنانے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما کے مطابق رات 8 بجے تک کئی نکات پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن بعد میں معالجین اور صوبائی معاملات پر بات ٹوٹ گئی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ تقریباً تمام امور پر اتفاق رائے ہو گیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے آخری مرحلے پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، سلمان اکرم راجہ نے وزیر داخلہ کے اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ حکومت کے ارادے مختلف تھے اور 72 گھنٹوں میں صوبے کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جسے مسترد کر دیا گیا۔
ادھر لکی مروت سے شروع ہونے والا پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کرک اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے جس کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے شکوہ کیا کہ عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا اور موجودہ حالات میں عدالت تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔