مذاکرات کادروازہ کھلا ہے،حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائے،بیرسٹر گوہر
جمہوریت میں احتجاج حق ہے، گولی نہیں چلنی چاہیے، گورنر راج حل نہیں۔
بیرسٹر گوہر سوات میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے، ہمارے کارکنان اور حامی پرامن ہیں اور کسی بھی مرحلے پر گولی نہیں چلنی چاہیے۔ سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے معاملے میں درکار سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ مذاکرات تو جنگوں کی حالت میں بھی کیے جاتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا لانگ مارچ کسی بھی طور رکا نہیں ہے، اگر حکومت مذاکرات اور معاملات کے حل میں مخلص ہے تو وہ فوری طور پر عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہماری پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے، تاہم اس وقت ملک میں عدالتوں کے احکامات کو صریحاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ کسی بھی صورت گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے سے ممکن نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اپنے ایک ردعمل میں کہا ہے کہ وزیر داخلہ حقائق پر پردہ ڈالنے سے گریز کریں اور حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دے تاکہ تمام مسائل کا درست حل نکل سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ حکومت کا بدلتا ہوا مؤقف اور ہٹ دھرمی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے اس امر پر زور دیا کہ تحریک انصاف نے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے اور لانگ مارچ ہمارا مکمل طور پر آئینی اور جمہوری حق ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے خبردار کیا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے حالات مزید بے قابو ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 25 سال سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے، اس لیے اگر حکومت کوئی بھی نئی پالیسی تشکیل دینا چاہتی ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھایا جائے۔ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے، اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سہرا بیرسٹر گوہر اور ان کی ٹیم کے سر ہے۔