راولپنڈی،اٹک اور میانوالی سے اضافی پولیس نفری واپس بلانے کا فیصلہ
راولپنڈی اور اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تعینات انسدادِ فسادات فورس تاحکمِ ثانی اپنی موجودہ جگہوں پر موجود رہے گی۔
راولپنڈی،اٹک اور میانوالی سے اضافی پولیس نفری واپس بلانے کا فیصلہ
راولپنڈی: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور حالات معمول پر آنے کے بعد راولپنڈی، اٹک اور میانوالی میں تعینات اضافی پولیس اہلکاروں کی مرحلہ وار واپسی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ تاہم راولپنڈی اور اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تعینات انسدادِ فسادات فورس تاحکمِ ثانی اپنی موجودہ جگہوں پر موجود رہے گی۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور دھرنے کے پیش نظر تعینات کی گئی اضافی پولیس نفری کو تین مراحل میں واپس بلایا جائے گا۔ پہلے مرحلے کا آغاز پیر کی شام سے کردیا گیا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر نصب کنٹینرز اور عارضی رکاوٹیں ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹک میں 29 ہزار سے زائد، اسلام آباد میں تقریباً 22 ہزار اور راولپنڈی میں ضلعی پولیس کی معاونت کے لیے 5 ہزار سے زیادہ اضافی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
پولیس اہلکاروں کی واپسی کا نظام الاوقات متعلقہ افسران کی مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے۔ متعلقہ علاقائی پولیس افسران، سٹی پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران نے نفری کی واپسی کے طریقہ کار کی منظوری دے دی ہے۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ اضافی نفری کی واپسی سے پہلے اہلکاروں، گاڑیوں اور دیگر سامان کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری بھی برقرار رکھی جائے۔
دوسری جانب انسدادِ فسادات فورس کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں اپنی موجودہ تعیناتی کے مقامات پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری کارروائی ممکن ہوسکے۔
حکام نے پولیس نفری کی واپسی کا عمل محفوظ اور منظم انداز میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مسلسل ڈیوٹی انجام دینے والے افسران اور اہلکاروں کی خدمات کو سراہا ہے۔