جے شنکر کے پاکستان مخالف ‘غیر مہذب’ بیان پر بھارت میں کڑی تنقید
جب بھارت روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے دعوے کرتا ہے تو کیا وہ 'بروکر' نہیں ہوتا؟ کانگریسی رہنما
فائل فوٹو
نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو پاکستان کے خلاف حالیہ غیر مہذب اور غیر سفارتی بیان پر ملک کے اندر اور عالمی سطح پر شدید سبکی کا سامنا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس بیان کو مودی حکومت کی “سفارتی ناکامی” اور بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
کانگریس کے رہنماؤں نے جے شنکر کے الفاظ کو کسی بھی وزیر خارجہ کے شایانِ شان قرار دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ڈاکٹر شمع محمد (ترجمان کانگریس نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اور بھارت کی بے دخلی مودی حکومت کی بڑی ناکامی ہے۔
کانگریسی رہنماؤں پون کھیرا اور سپریہ شری نیتے نے مودی حکومت کے دہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھارت روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کے دعوے کرتا ہے تو کیا وہ ‘بروکر’ نہیں ہوتا؟ انہوں نے جے شنکر کے بیان کو تضادات کا مجموعہ قرار دیا۔
مشہور بھارتی تجزیہ نگار اشوک سوائن نے جے شنکر کے لہجے کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ “یہ محض سڑک چھاپ زبان ہے، جو ایک وزیر خارجہ کو زیب نہیں دیتی۔”
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق جے شنکر کا حالیہ اشتعال انگیز بیان دراصل حالیہ سفارتی ہزیمت چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی بحران میں بھارت کو کوئی مرکزی کردار نہ ملنا بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔