اسرائیل کا 24 گھنٹوں میں 6,500 ٹن فوجی ساز و سامان وصول کرنے کا دعویٰ
یہ سامان دو بحری جہازوں اور متعدد کارگو طیاروں کے ذریعے اسرائیل پہنچا ہے ، وزارت دفاع
فائل فوٹو
تل ابیب : اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 6,500 ٹن وزنی جدید فوجی ساز و سامان پہنچایا گیا ہے۔ اس بڑی کھیپ میں فضائی و زمینی گولہ بارود اور دیگر جنگی آلات شامل ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ سامان دو بحری جہازوں اور متعدد کارگو طیاروں کے ذریعے اسرائیل پہنچا ہے۔ دو بڑے مال بردار جہاز اور کئی فوجی کارگو طیارے، سامان کی وصولی کے بعد اسے سینکڑوں ٹرکوں کے ذریعے ملک بھر میں پھیلے ہوئے مختلف فوجی اڈوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس کھیپ میں فضائیہ کے لیے بم، زمینی دستوں کے لیے گولہ بارود، فوجی ٹرک اور ‘جوائنٹ لائٹ ٹیکٹیکل وہیکلز’ (JLTVs) شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ان ترسیلات کا مقصد اسرائیلی فوج کو ان تمام وسائل سے لیس کرنا ہے جو دشمن کے خلاف کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ “بھرپور طاقت” کے ساتھ کارروائی کے لیے ضروری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ سپلائی آپریشن ‘رورنگ لائن’ کے تحت جاری وسیع تر فوجی تعاون کا حصہ ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس فضائی اور بحری پل (Air and Sea Bridge) کے ذریعے اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 15 ہزار ٹن سے زائد فوجی ساز و سامان اسرائیل پہنچایا جا چکا ہے، جس کا بڑا حصہ امریکہ کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔