عالمی مارکیٹ میں خام تیل 80 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گیا

جنگ شروع ہونے سے پہلے مارکیٹ مستحکم تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک / لندن: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے اور اس کے نتیجے میں تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز  کے دوبارہ کھلنے کی امیدوں نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آ گئی ہیں۔

عالمی مارکیٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت گراوٹ کے بعد 79.90 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ برینٹ ائل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے نیچے ریکارڈ کی گئی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تنازع اور جنگ شروع ہونے سے پہلے مارکیٹ مستحکم تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل کے قریب تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث سپلائی معطل ہونے کے خدشات پیدا ہوئے، جس سے قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور برینٹ تیل کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک، یعنی تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین معاہدے کے اعلان نے سرمایہ کاروں اور آئل ٹریڈرز کا اعتماد بحال کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہوگی، جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا ایک بڑا حصہ (تیل اور گیس) بحری جہازوں کے ذریعے سپلائی کیا جاتا ہے۔ سپلائی بحال ہونے کی امید نے مارکیٹ سے “جنگی خطرے کا پریمیم” ختم کر دیا ہے جس کے باعث قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں۔