مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں ریاست کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کے مطالبے پر بی جے پی اراکین آپے سے باہر

اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کا شکار

September 21, 2026 · امت خاص

 

مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کا شکار ہو گیا۔

وادی کشمیر کے اراکین کی جانب سے آئینی حیثیت (آرٹیکل 370 اور 35A) اور ریاست کی خود مختاری کی بحالی کے لیے پیش کی جانے والی قرارداد پر بی جے پی ارکان آپے سے باہر ہو گئے۔بھارتی حکمران جماعت کے اراکین نے کشمیری نمائندوں کی آواز دبانے کے لیے ایوان میں بینرز پھاڑے، نعرے بازی کے علاوہ اراکین کے ساتھ دھکم پیل اور ہاتھا پائی کی۔

حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگائے۔صبح 10 بجے اجلاس شروع ہوتے ہی نیشنل کانفرنس کے ارکان، جن میں علی محمد ساگر بھی شامل تھے، نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں نعرے بلند کیے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رکن محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ منتخب حکومت کو اقتدار سنبھالے 2 سال گزر چکے ہیں، تاہم ریاستی حیثیت بحال نہیں کی گئی۔

ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر بی جے پی ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر احتجاج کیا اور ’بھارت ماتا کی جے‘ سمیت مختلف نعرے لگائے۔ اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ارکان کو بار بار ہدایت کی کہ وہ موقع ملنے پر اپنے مسائل اٹھائیں اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ اجلاس کو عوامی مسائل پر بحث کے لیے استعمال کریں۔

نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بی جے پی ارکان کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوامی مسائل اٹھانے ہیں تو حکومت سے سوالات کیے جائیں، متعلقہ وزرا ان کے جوابات دیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت کی مودی سرکار نے اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے سابق ریاست کو 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ مقبوضہ علاقے کی سیاست میں اہم معاملہ بنا ہوا ہے۔