پٹرول سستا کرنے کا نیا فارمولا سامنے آگیا
پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 15 فیصد ایتھنول پر مشتمل ایندھن کی فروخت کی اجازت
پٹرول سستا کرنے کا نیا فارمولا سامنے آگیا
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 15 فیصد ایتھنول پر مشتمل ایندھن کی فروخت کی اجازت دے دی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے متعلقہ قانون پر دستخط کردیئے، جس کے بعد ریاست میں E15 ایندھن کی فروخت کی قانونی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے۔ کیلیفورنیا امریکا کی واحد ریاست تھی جہاں اس قسم کے زیادہ ایتھنول والے ایندھن کی فروخت کی اجازت نہیں تھی۔
گورنر گیون نیوزوم کے مطابق نئے قانون کے ذریعے غیر ضروری رکاوٹیں دور کی گئی ہیں جبکہ ماحولیاتی اور حفاظتی تقاضوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد کیلیفورنیا کے شہریوں کو ایندھن کے ایک مزید متبادل کا انتخاب حاصل ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا میں پٹرول کی اوسط قیمت حالیہ دنوں میں تقریباً 6.14 ڈالر فی گیلن رہی، جبکہ امریکا بھر میں اوسط قیمت تقریباً 4.44 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔
قابل تجدید ایندھن کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق E15 کی منظوری سے ریاست میں ایتھنول کی طلب میں سالانہ تقریباً 650 ملین گیلن تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایتھنول کی ہول سیل قیمت روایتی پٹرول کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث E15 کے استعمال سے صارفین کے ایندھن کے اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔
قابل تجدید ایندھن کی صنعت کی جانب سے کیے گئے ایک اندازے کے مطابق E15 کی دستیابی سے پٹرول کی خوردہ قیمت میں تقریباً 20 سینٹ فی گیلن تک کمی ممکن ہے، جس کے نتیجے میں کیلیفورنیا کے ڈرائیور سالانہ اربوں ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی کانگریس بھی ملک بھر میں سال کے تمام مہینوں کے دوران E15 ایندھن کی فروخت کی اجازت دینے سے متعلق قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث امریکا میں بھی ایندھن کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ کیلیفورنیا میں ماحولیاتی ضوابط، ٹیکسوں اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار سمیت مختلف عوامل کے باعث پٹرول کی قیمتیں دیگر امریکی ریاستوں کے مقابلے میں بلند رہتی ہیں۔