ڈیزل کی قیمتیں معمول پر آنے میں ایک سال سے زائد لگ سکتا ہے،امریکی کمپنیوں کا انتباہ
امریکا میں ستمبر کے دوران ڈیزل کی قیمت تقریباً ساڑھے 6 ڈالر فی گیلن کی بلند سطح تک پہنچ گئی تھی۔
ڈیزل کی قیمتیں معمول پر آنے میں ایک سال سے زائد لگ سکتا ہے،امریکی کمپنیوں کا انتباہ
واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو کے ڈلاس فیڈ سروے میں شامل توانائی کمپنیوں کے مطابق ایران جنگ اور یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملوں کے اثرات اب توانائی کی عالمی منڈی پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمتوں کو معمول کی سطح پر آنے میں ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔
امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کی ممکنہ تجویز پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ابتدائی طور پر قیمتوں میں کمی آسکتی ہے، تاہم بعد میں سپلائی متاثر ہونے کے باعث قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں اور مہنگائی پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں ستمبر کے دوران ڈیزل کی قیمت تقریباً ساڑھے 6 ڈالر فی گیلن کی بلند سطح تک پہنچ گئی تھی۔