عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 27 سینٹ یا 0.29 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 93.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعے کے روز معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجوہات چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات محدود کرنے کی اطلاعات اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق خبریں بتائی جا رہی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 29 سینٹ یا 0.28 فیصد بڑھ کر 102.60 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 27 سینٹ یا 0.29 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 93.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
اس سے ایک روز قبل بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر سے زیادہ جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 2 ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق چین کی جانب سے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات محدود کیے جانے کی اطلاعات نے مارکیٹ میں طلب اور رسد کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی فوجی تعیناتی کی اطلاعات نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ خطے کی صورتحال کی جانب مبذول کرائی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور مزید 10 ہزار تک فوجی اہلکار بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے معاملے پر غور کر رہے ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق رواں ہفتے تیل کی منڈی کو مختلف سمتوں سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے حالیہ تیزی کے بعد محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
سعودی عرب سے تیل کی برآمدات میں بہتری کی اطلاعات قیمتوں میں اضافے کو محدود کر رہی ہیں، جبکہ خلیج کی جانب اضافی امریکی فوجی وسائل کی روانگی اور چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات محدود کرنے کی خبریں قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت رواں ہفتے مجموعی طور پر تقریباً 1.93 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے، تاہم ستمبر کے دوران اس کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت گزشتہ ماہ تقریباً 4 فیصد بڑھی تھی۔
عالمی تیل منڈی میں اب سرمایہ کار چین کی ایندھن پالیسی، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور ایران سے متعلق آئندہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔