روسی آئل ریفائنریوں پر حملے مزید تیز کیے جائیں گے، زیلنسکی
یوکرین کی جوابی کارروائیوں میں شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا،زیلنسکی
روسی آئل ریفائنریوں پر حملے مزید تیز کیے جائیں گے، زیلنسکی
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے کیف اور دیگر شہروں پر فضائی حملوں میں اضافے کے جواب میں یوکرین روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں مزید بڑھائے گا۔
زیلنسکی کے مطابق یوکرین کی جوابی کارروائیوں میں شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، بلکہ توجہ روس کے توانائی کے شعبے اور ان آئل ریفائنریوں پر مرکوز رہے گی جو جنگی اخراجات کے لیے روس کو آمدنی فراہم کرتی ہیں۔
یوکرینی صدر نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی انٹیلی جنس کو ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے موسم سرما سے قبل بڑے پیمانے پر حملوں کی نئی حکمت عملی کی منظوری دی ہے۔
ان کے مطابق مبینہ منصوبے میں انفراسٹرکچر، رسد کے نظام، سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری شامل ہے، جس کا مقصد کیف اور دیگر شہروں سے لوگوں کی نقل مکانی پر مجبور کرنا ہوسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں کے جواب میں یوکرین اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق یوکرینی جوابی کارروائیوں کے دوران ڈونباس میں تقریباً 140 مربع کلومیٹر علاقہ واپس لیا جاچکا ہے۔
یوکرینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ روس کے پاس موسم سرما میں حملوں کے لیے سیکڑوں بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جبکہ یوکرین کو نئے جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد ڈرونز کے خلاف دفاع میں مشکلات کا سامنا ہے۔