دو انجیکشن کے باوجود خاتون قیدی زندہ، امریکی جیل کمشنر نے استعفیٰ دے دیا

50 سالہ خاتون کو سزائے موت دینے کے لیے پینٹوباربیٹل کے دو انجیکشن دیے گئے، تاہم وہ زندہ رہیں

October 4, 2026 · بام دنیا
دو انجیکشن کے باوجود خاتون قیدی زندہ، امریکی جیل کمشنر نے استعفیٰ دے دیا

دو انجیکشن کے باوجود خاتون قیدی زندہ، امریکی جیل کمشنر نے استعفیٰ دے دیا

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش کے بعد محکمہ اصلاح کے کمشنر فرینک اسٹریڈا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔

ٹینیسی کے گورنر بل لی کے مطابق فرینک اسٹریڈا رواں ماہ اپنا منصب چھوڑ دیں گے۔ یہ فیصلہ سزا یافتہ قاتل کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق 50 سالہ خاتون کو سزائے موت دینے کے لیے پینٹوباربیٹل کے دو انجیکشن دیے گئے، تاہم وہ زندہ رہیں۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اس وقت پائیک کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ بے ہوشی کی حالت میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔

کرسٹا پائیک کو 1995 میں کولین سیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ٹینیسی میں رواں سال یہ سزائے موت پر عملدرآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے۔

اس سے قبل مئی میں ایک دوسرے قیدی کو سزائے موت دینے کا عمل اس وقت روکنا پڑا تھا جب طبی عملہ اس کی رگ تلاش کرکے انجیکشن لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

گورنر بل لی نے فرینک اسٹریڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل صورتحال میں ٹینیسی کے شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب اسٹریڈا نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اب بھی یقین ہے کہ محکمہ اصلاح نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

واضح رہے کہ گورنر بل لی نے اس سے قبل کرسٹا پائیک کی رحم کی درخواست مسترد کردی تھی، تاہم ناکام عملدرآمد کے بعد انہوں نے سال کے اختتام تک سزائے موت پر عملدرآمد کے دیگر تمام معاملات روک دیے ہیں۔ اس دوران ناکام کارروائی کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔

اگر مہلک انجیکشن سے کرسٹا پائیک کی موت واقع ہوجاتی تو وہ 200 سال سے زائد عرصے کے دوران ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔ امریکا میں 1976 کے بعد سے اب تک 18 خواتین کو سزائے موت دی جاچکی ہے، جو ملک میں دی جانے والی مجموعی سزائے موت کے مقابلے میں ایک بہت کم تعداد ہے۔