فرانس کے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈی گال میں آگ لگ گئی
آگ آکسی ایسیٹیلین ٹارچ کے ذریعے دھات کاٹنے کے کام کے دوران لگی۔
فرانس کے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈی گال میں آگ لگ گئی
فرانس کے جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈی گال میں ٹولون نیول بیس پر آگ لگ گئی، تاہم واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور جہاز کے جوہری نظام کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔
فرانسیسی بحریہ کے مطابق آگ پیر کی صبح اس وقت لگی جب جہاز بحری اڈے پر معمول کی تکنیکی دیکھ بھال کے لیے موجود تھا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد اسے بجھا دیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ آگ آکسی ایسیٹیلین ٹارچ کے ذریعے دھات کاٹنے کے کام کے دوران لگی۔
فرانسیسی بحریہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آگ سے جہاز کے جوہری نظام اور تنصیبات محفوظ رہیں۔
فرانسیسی بحریہ نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ چارلس ڈی گال اگست کے آخر سے ٹولون میں معمول کی تکنیکی دیکھ بھال کے مرحلے میں ہے اور اسے دسمبر کے آغاز تک اسی بحری اڈے پر رہنا ہے۔